News Detail

History of Gulshan-E-Maymar

منقول پوسٹ؛ گلشنِ معمار کی تاریخ

“گلشن معمار”
گڈاپ ٹائون، اسکیم 45، کراچی-75340، پاکستان

(محمد نعیم خان)، بروز سنیچر، 22 مئی 2021ء

گڈاپ ٹاؤن؛ مجھے فخر ہے کہ قدرت نے مجھے پاکستان کی ایک ایسی زمین پر آباد ہونے کا موقع دیا جس کو “بانی پاکستان و پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح” نے 1948ء میں “پاکستان کے نئے دارالحکومت” کی تعمیر کیلئے منتخب کیا تھا۔ شومئی قسمت “قائداعظم” سے عقیدت کے راگ الاپنے والے انکی خواہش سے روگردانی کر گئے۔ جس کا جیسا عمل وہ ہی جانے، میرے لئے تو یہی خوش نصیبی کیا کم ہے کہ رب کریم نے مجھے اس زمین پر آباد کیا جس کو “قائداعظم” نے پسند اور منتخب کیا تھا۔

اس دنیا میں کوئی بھی بستی بستے بستے بستی ہے۔ 1964ء میں اس شہر کراچی کے دو (2) سول انجینئرز آرکیٹکٹس (حافظ صادق حسین اور سید مظہر علی) نے مل کر کام کرنا شروع کیا اور 1966ء میں انہوں نے (Maymar Consulting Engineers & Architects – MCEA) کی بنیاد رکھی۔

سات (7) سال بعد انہوں نے اپنے کاروبار میں تعمیراتی شعبے کو شامل کیا اور 7 جولائی 1973ء کو (Maymar Housing Services Pvt. Ltd. – MHSL) کی بنیاد رکھی۔

1973ء سے 2000ء کے دوران (MHSL) نے کراچی کے مختلف علاقوں میں (300) بنگلوز، (1,300) اپارٹمنٹس تعمیر کئے، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کے (225) کم لاگت کے اپارٹمنٹس کی تعمیر مکمل کی اور (2,950) کم لاگت کے گھروں کی معمار آباد (سرجانی ٹاؤن) میں تعمیرات بھی مکمل کیں۔

1980ء میں (MHSL) نے ابتدا میں (139) ایکڑ پر گلشن معمار کی بنیاد رکھی۔ گلشن معمار پروجیکٹ میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل 1985ء میں ہوئی۔ 1985ء میں جناب سید مظہر علی کراچی سے سینیٹر منتخب ہوئے اور اس اسکیم کا باقاعدہ افتتاح 1986ء میں اس وقت کے صدر مملکت پاکستان (جنرل محمد ضیاالحق) نے کیا تھا۔

2000ء تک کراچی شہر میں اس سوسائٹی کی مقبولیت کی وجہ سے اس کا رقبہ (1,000) ایکڑ سے زائد علاقے پر پھیلا دیا گیا۔

1982ء میں اچانک جناب حافظ صادق حسین صاحب اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انکے انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ نے جناب سید مظہر علی کے ساتھ ہی اپنا کاروبار جاری رکھا۔ 2004ء میں جناب سید مظہر علی بھی اپنے گھر کے پاس ہی ایک کار حادثہ کے بعد انتقال کر گئے۔ 31-08-2007ء کو گلشن معمار کے دونوں بنیادی خاندانوں نے (MHSL) کے تمام اثاثہ جات فروخت کر کے اس پروجیکٹ سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی۔

جناب حافظ صادق حسین ولد محمد مظہر حسین (24-12-1929ء – 21-12-1982ء) 53 سال اور جناب سید مظہر علی ولد سید اصغر علی (12-06-1939ء – 02-05-2004ء) 65 سال قابل تحسین شخصیات تھیں۔ دونوں محترم شخصیات کی گلشن معمار سے وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں حضرات کے جسد خاکی کی تدفین “گلشن معمار کی پہلی مسجد” (سیکٹر X-6 کی مرکزی جامع مسجد) سے متصل پارک کے احاطہ میں کی گئی۔ ان دونوں افراد نے اس بستی کی ابتدا سے لے کر اپنی زندگی کی انتہا تک چاہے آبادی کی شرح کتنی بھی کم رہی ہو مگر انہوں نے تمام پارک اور رہائش کی تمام بنیادی سہولتوں کو مکمل طور پر جاری و ساری رکھا۔

عمرانیات کے پہلو سے ان حضرات کی شخصیت کا خوبصورت ترین پہلو یہ ہے کہ انہوں نے دس (10) سیکٹرز اور چھیالیس (46) سب سیکٹرز کی تقسیم میں آبادی کو طبقاتی طور پر تقسیم نہیں کیا بلکہ ہر علاقے کو اس طرز پر تقسیم کیا کہ آبادی کا ہر طبقہ مکمل عمرانی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی زندگی بہ رضا و رغبت ایک خوش کن ماحول میں گزار سکے۔ اس حوالے ان حضرات نے گلشن معمار کے رہائشیوں کی مذہبی، تہذیبی، امن و امان اور شہری سہولتوں کی علاقے میں دستیابی کیلئے مختلف سیکٹرز میں مساجد، مرکزی عید گاہ، اسلامک کلچرل سینٹر، شادی ہال، ڈسپنسری، پیٹرول پمپ، پولیس اسٹیشن، سول ڈیفنس فائر فائیٹنگ اسٹیشن، فیملی پارکس، کھیلوں کے میدان اور ریسٹ ہائوس کو تعمیرات کی منصوبہ بندی میں مستقل شامل رکھا۔

گلشن معمار ہائوسنگ سروسز لمیٹڈ (MHSL) کا مرکزی ریکارڈ اور کاروباری دفتر تو شروع سے کراچی کے شہری علاقوں میں رہا مگر ٹائون کمونیٹی سسٹم کے تصور کو مدنظر رکھتے ہوئے (MHSL) نے علاقائی دفتر کو “ٹاؤن ہال” کا نام دیا۔ جس میں رہائشیوں کی ثقافتی، سماجی اور صحت کے پہلوئوں کا خیال رکھتے ہوئے “ٹاؤن ہال” میں مرد حضرات اور خواتین کیلئے علیحدہ کلبز، انڈور گیمز، ٹینس کورٹ، سوئمنگ پول، تقریبات کیلئے ہال اور لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں (MHSL) کے نئے چیرمین جناب عبد الرشید میمن صاحب (مرحوم) نے اس بند ہوتی ہوئی لائبریری کا دوبارہ احیا کیا اور اسے “جناب حافظ صادق حسین” کی گلشن معمار کے حوالے سے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لائبریری کو ان کے نام “صادق حسین لائبریری” سے منسوب کر دیا۔ اسی طرح ٹائون ہال کے عقب میں سیکٹر X-2 اور X-3 کی درمیانی سڑک بھی “جناب حافظ صادق حسین” کے نام سے منسوب ہے۔

2004ء میں جناب سید مظہر علی کے انتقال کے بعد سے گلشن معمار کے معیار میں انحطاط کا جو عمل شروع ہو گیا تھا وہ ہنوز اپنی تمام تر شدتوں و حدتوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

2009ء میں صدر پاکستان کی وساطت سے (MHSL) نے (PHA) کے ساتھ شہر کی ترقی کیلئے (8,000) فلیٹس وزیراعظم ہائوسنگ اسکیم کے تحت بنانے کا معاہدہ کیا۔ شہریوں نے اس اسکیم کی سرمایہ کاری میں بھرپور طریقے سے شرکت کی۔ پھر یہ اسکیم نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر کئی سالوں تک منجمد رہی اور شہری مسائل کا شکار رہے۔ بعد میں فلیٹس کی تعداد انتہائی محدود کر کے نئی اور بھرپور اضافہ شدہ قیمتوں کے ساتھ اس اسکیم کو بحال کیا گیا۔ ان فلیٹس کی تعمیر میں تاخیر، اضافی قیمتوں اور عدم اعتماد کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت نے اس اسکیم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بعد ازاں ان علیحدگی اختیار کرنے والے شہریوں کو انکی ادا شدہ اقساط کی رقم کی واپسی دس (10) سال بعد براستہ نیب 2019ء میں انجام پائی۔

بیاد “سینیٹر، سید مظہر علی” (1939ء – 2004ء)

آپ سول انجینئر، کاروباری، سیاست دان، ماہر تعلیم اور سب سے بڑھ کر انسان دوست تھے۔

ان کے والد میجر سید اصغر علی برطانوی فوج کے محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دیتے تھے۔

انہوں نے جامعہ کراچی سے (1958ء) میں سول انجینئرنگ کی ڈگری فرسٹ کلاس میں حاصل کی۔

انہیں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی لیہہ (Leigh) یونیورسٹی میں وظیفے سے نوازا گیا، جہاں سے انہوں نے سول و ساختی (Structural) انجینئرنگ میں (1959ء-1961ء) اپنا ایم ایس سی مکمل کیا۔

ان کے تعمیری منصوبوں میں انٹرکانٹینینٹل ہوٹل ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) کی تعمیر بھی شامل تھی۔

آپ ایسوسی ایشن آف بلڈر اینڈ ڈویلپرز (ABAD) کے چیئرمین بھی رہے۔

آپ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی، حکومت پاکستان کے وائس چیئرمین بھی تھے۔

آپ پاکستان کی سینیٹ “ریسورس موبلائزیشن اینڈ ٹیکس ریفارمز کمیشن” کے چیئرمین بھی رہے اور ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کے لئے آئی ٹی سسٹم متعارف کرایا۔

آپ 1997ء سے چیرمین کمپیوٹر ٹریننگ و ٹیسٹنگ سینٹر کراچی بھی رہے۔

1998 میں، انہوں نے گلشن معمار میں کراچی انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی (KIIT) قائم کیا۔

وہ ایک دلکش شخصیت کے مالک تھے اور وہ سبھی لوگ ان کو تادیر یاد رکھیں گے جو ان کی گرم جوشی، دیانتداری اور خلوص کے ساتھ کام کرنے کا شرف رکھتے تھے۔

ان کی موت کے بعد، جب آپ کے معاشی معاملات کو بند کیا گیا، تو ان کے اہل خانہ کو ان کی خاموشی سے صدقات و خیرات اور کمزوروں و حاجتمندوں کی امداد کی حد کا احساس ہوا۔

ان کے پسمان کنندگان میں اہلیہ (عذرا)، بیٹا (سید امیر علی) اور دو بیٹیاں (مونا اور سحر) شامل ہیں۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔
(ہم اللّہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ آئیں گے)

“Town Hall”, Sector X-2, Gulshan Maymar
Telephone #:
02136350231
02136833382
02136833383

Current Head Office (MHSL):
Suite# 305, 3rd. Floor,
Al-Khaleej Towers,
Shaheed-e-Millat Road,
Karachi

Telephone: 021-34556593-7
UAN: 111-629-627 (maymar)
Email: info@maymar.com.pk
Website: www.maymar.com.pk

Previous Head Office (MHSL):
124D Block 2, Tariq Road, Karachi

Initial Head Office (MCEA):
16 Qazi Court, Bahadurabad, Karachi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts

Compare

×

Assalam-0-alaikum

Click one of our representatives below to chat on WhatsApp or send us an email to sales@al-bari.com

× Welcome

Enter your keyword